3909 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ قَالَ كَانَ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم میں کچھ لوگ ہیں جو لکیریں کھینچتے ہیں ( ان سے کچھ نتائج نکالتے ہیں ) تو آپ ﷺ نے فرمایا " ( اللہ کے ) انبیاء میں سے ایک نبی لکیریں کھینچا کرتے تھے ۔ چنانچہ جس کی لکیریں اس کے موافق ہوں وہ درست ہے ۔ "
لکیروں کا علم ابتدا میں ایک نبی کے پاس تھا مگر بعد میں یہ جاری نہیں رہ سکا۔ تو اب کوئی کیونکر یہ دعوٰی کرسکتا ہے کہ یہ بالکل وہی ہے جو اس نبی کے پاس تھا بلکہ اس کے وہم اور مشتبہ ہو نے کا یقین ہے۔ اس لیئے اس سے بچنا واجب ہے