408 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ قَالَ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ مَا دَامَتْ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً
جناب یزید بن عبدالرحمٰن بن علی بن شیبان اپنے باپ سے وہ اس کے دادا علی بن شیبان ؓ سے راوی ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو ( دیکھا کہ ) آپ عصر کو مؤخر کرتے تھے جب تک کہ سورج سفید اور صاف ہوتا ۔
صحیح روایات سے تاخیر کا نہیں ،اول وقت میں پڑھنے کا اثبات ہوتا ہے۔