4143 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ وَكِيعٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَرَأَيْتُهُ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ زَادَ ابْنُ الْجَرَّاحِ عَلَى يَسَارِهِ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاهُ إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ أَيْضًا عَلَى يَسَارِهِ
سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے گھر گیا تو میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ایک تکیے کا سہارا لیے ہوئے تھے ۔ عبداللہ بن جراح نے کہا: آپ ﷺ اپنے بائیں پہلو سے سہارا لیے ہوئے تھے ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا: اس روایت کو اسحاق بن منصور نے بھی اسرائیل سے روایت کہا ( تو کہا کہ ) آپ ﷺ بائیں پہلو سے سہارا لیے ہوئے تھے ۔
تکیے کا سہارا لے کر بیٹھنا مباح ہے ، کوئی تکبر کی بات نہیں ہے نیز اس مقصد کے لئے گھر میں حسب ضرورت تکیے ہوں تو کوئی حرج نہیں ۔