4265 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ زِيَادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ، قَتْلَاهَا فِي النَّارِ، اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّيْفِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ عَنِ الْأَعْجَمِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " عنقریب فتنہ برپا ہو گا جو سب عربوں کو ہلاک کر ڈالے گا ' اس کے مقتول جہنم میں جائیں گے ۔ اس میں زبان سے بولنا تلوار چلانے سے بھی سخت ہو گا ۔ " امام ابوداؤد ؓ نے کہا: اس روایت کو ثوری نے بواسطہ لیث ' طاؤس سے اور اس نے اعجم سے روایت کیا ۔
یہ روایت سندََ ا ضعیف ہے۔ تاہم ان حالات میں زبان سے بولنا۔۔۔۔ اسی صورت میں فتنہ انگیزی ہو گی جب کوئی کسی کی نا حق حمایت یا مخالفت کرے گا۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر تو کسی دور میں بھی منع نہیں ہے۔