باب: مرتد ، یعنی دین اسلام سے پھر جانے والے کا حکم
4356 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ... بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَأُتِيَ أَبُو مُوسَى بِرَجُلٍ قَدْ ارْتَدَّ عَنْ الْإِسْلَامِ، فَدَعَاهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً- أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا-، فَجَاءَ مُعَاذٌ، فَدَعَاهُ، فَأَبَى، فَضَرَبَ عُنُقَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ لَمْ يَذْكُرْ الِاسْتِتَابَةَ وَرَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الِاسْتِتَابَةَ.
جناب ابوبردہ نے یہ قصہ بیان کیا ، کہتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ کے ہاں ایک آدمی پیش کیا گیا جو اسلام سے مرتد ہو چکا تھا ۔ تو آپ اسے تقریبًا ! بیس رات دعوت دیتے رہے ۔ پھر سیدنا معاذ ؓ تشریف لے آئے تو انہوں نے بھی اسے دعوت دی مگر اس نے انکار کر دیا ' تو اس کی گردن مار دی گئی ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو عبدالملک بن عمیر نے ابوبردہ سے روایت کیا ہے مگر اس میں توبہ کرانے کا بیان نہیں ۔ اور ابن فضیل نے بواسطہ شیبانی ' سعید بن ابی بردہ سے انہوں نے اپنے والد ابوموسیٰ سے روایت کیا تو اس میں بھی توبہ کرانے کا ذکر نہیں ہے ۔