فهرس الكتاب

الصفحة 4358 من 5274

کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان

باب: مرتد ، یعنی دین اسلام سے پھر جانے والے کا حکم

4358 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَزَلَّهُ الشَّيْطَانُ، فَلَحِقَ بِالْكُفَّارِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ, فَاسْتَجَارَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ, فَأَجَارَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سعد بن ابو سرح رسول اللہ ﷺ کا کاتب تھا ۔ تو شیطان نے اسے بہکا لیا اور وہ کفار سے جا ملا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے ۔ تو سیدنا عثمان بن عفان ؓ نے اس کے لیے امان طلب کر لی ' تو رسول اللہ ﷺ نے اسے امان دے دی ۔

1)کوئی مرتد تنفید حد سے پہلے تو بہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہے۔

2)فتنے سے ہمیشہ اللہ کی پناہ مانگتے رہنا چاہئے، شیطان کے پھندے بے شمار ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت