فهرس الكتاب

الصفحة 4685 من 5274

کتاب: سنتوں کا بیان

باب: ایمان کے کم و بیش ہونے کے دلائل

4685 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ح، وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَسْمًا، فَقُلْتُ: أَعْطِ فُلَانًا, فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ، قَالَ: >أَوْ مُسْلِمٌ؟! إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ الْعَطَاءَ، وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ, مَخَافَةَ أَنْ يُكَبَّ عَلَى وَجْهِهِ

جناب عامر اپنے والد سیدنا سعد ( سعد بن ابی وقاص ) ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں میں کچھ مال تقسیم کیا تو میں نے عرض کیا: فلاں کو بھی دیجئیے بلاشبہ وہ مومن ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " یا مسلم ہے ، بیشک میں کسی شخص کو کوئی عطیہ دیتا ہوں حالانکہ اس کے بجائے کوئی دوسرا مجھے زیادہ محبوب ہوتا ہے ، ( اسے کچھ نہیں دیتا ) میں اس اندیشے سے اسے دیتا ہوں کہ کہیں اوندھے منہ نہ گرا دیا جائے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت