فهرس الكتاب

الصفحة 4687 من 5274

کتاب: سنتوں کا بیان

باب: ایمان کے کم و بیش ہونے کے دلائل

4687 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْفَرَ رَجُلًا مُسْلِمًا, فَإِنْ كَانَ كَافِرًا, وَإِلَّا كَانَ هُوَ الْكَافِرُ

سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس کسی مسلمان نے کسی مسلمان کو کافر کہا ، تو اگر وہ ( فی الواقع ) کافر ہوا تو «فبها» ورنہ کہنے والا ہی کافر ہے ۔

زبان کابول بے کار نہیں جاتا،کسی مسلمان کو بغیر کسی واضح شرعی دلیل کے کافر قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ اگر مخاطب فی الواقع اس کا مستحق نہ ہو ،تو کہنے والا ضرور اس سے متاثر ہوتا ہے ۔مگر یہ کفر اکبر سے کم درجے کا ہے ۔ کبیرہ گناہ ہے جس کے مرتکب کو اسی معنی میں کافر قرار دیاگیا ہے جس معنی میں اوپر کی حدیث میں کہا گیا ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت