فهرس الكتاب

الصفحة 4708 من 5274

کتاب: سنتوں کا بیان

باب: تقدیر کا بیان

4708 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى وَاحِدٌ وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: >إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ مَلَكٌ، فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: فَيُكْتَبُ رِزْقُهُ، وَأَجَلُهُ، وَعَمَلُهُ، ثُمَّ يُكْتَبُ: شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ, فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ- أَوْ قِيدُ ذِرَاعٍ-، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ- أَوْ قِيدُ ذِرَاعٍ-، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا

سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان فرمایا ، اور آپ صادق اور مصدوق ہیں ۔ ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اس کے ملائکہ ، انبیاء و رسل اور مومنین کی جانب سے آپ کی تصدیق کی گئی ہے ) " تمہاری پیدائش کے مراحل میں نطفہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک مجتمع رہتا ہے ، پھر اتنے ہی دن ج ہوا خون ( لوتھڑا ) بن جاتا ہے ۔ پھر اتنے ہی دنوں کے لیے گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتیں لکھنے کا حکم ہوتا ہے ۔ وہ اس کا رزق ، اجل ( عمر یا موت ) ، عمل اور یہ کہ وہ خوش بخت ہو گا یا بدبخت ، یہ سب لکھ دیتا ہے ۔ پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے ۔ چنانچہ یقینًا تم میں سے کوئی اہل جنت والے عمل کرتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور اس ( جنت ) کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے ، مگر اس سے پہلے جس طرح لکھا ہوا ہے اس کے مطابق دوزخیوں والے عمل شروع کر دیتا ہے اور دوزخ میں جا پڑتا ہے ۔ اور بیشک تم میں سے کوئی دوزخیوں والے عمل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے ، لیکن اس سے پہلے جو لکھا ہے اس کے مطابق وہ جنتیوں والا عمل کر لیتا ہے اور جنت میں چلا جاتا ہے ۔ "

1: بظاہر اگر کوئی انسان ایک راہ پر جارہا ہوتو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ ہمیشہ اسی راہ پر چلتا رہے گا اس کے اگر آخر میں جا کر بھی راستہ بدل لینا ہے تو یہ سب پہلے سے اللہ کے علم کے مطابق لکھا ہواہے ۔

2: تقدیرکا معاملہ سراسر غیب کا معاملہ ہے ،انسان کو خود بھی خیر کے عمل کرکے دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے کہ بس بخشا گیا یا غلط ہونے کی وجہ سے بابکل ہی مایوس نہیں ہونا چاہیے کہ بس مارا گیا ،بلکہ ہمیشہ اللہ الرحمن الرحیم سے بھلائی کی توفیق مانگتے رہنا چاہیے اور غلط کشی سے فورا تونہ کرنی چاہیے اے دلوں کے بدلنے والے ،مجھے اپنے دین کی اطاعت پر ثابت قدم رکھ ۔۔۔۔اور اے دلوں کے پھیرنے والے !میرے دل کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت