فهرس الكتاب

الصفحة 4709 من 5274

کتاب: سنتوں کا بیان

باب: تقدیر کا بیان

4709 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: >نَعَمْكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ

سیدنا عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول ! کیا دوزخیوں کے مقابلے میں جنتیوں کو جانا جا چکا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " ہاں " کہا گیا: تو پھر عمل کرنے والے کیونکر عمل کرتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " ہر ایک کو اسی کی توفیق ملتی ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے ۔"

اس حدیث میں تقدیرکو صراحتا (اللہ کا ) علم قراردیا گیا ہے اس معنی کی احادیث میں اہل خیر کو ایک حد تک خیر کی بشارت اور امید دلائی گئی ہے اور دوسروں کے لئے تنبیہ اور توبہ کی دعوت ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت