5139 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ أُمَّكَ ثُمَّ أُمَّكَ ثُمَّ أُمَّكَ ثُمَّ أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْأَلُ رَجُلٌ مَوْلَاهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَضْلُهُ الَّذِي مَنَعَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ قَالَ أَبُو دَاوُد الْأَقْرَعُ الَّذِي ذَهَبَ شَعْرُ رَأْسِهِ مِنْ السُّمِّ
جناب بہز بن حکیم اپنے والد سے ، وہ دادا سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اﷲ کے رسول ! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " اپنی ماں ، باپ ، بہن ، بھائی اور آزاد کرنے والے کے ساتھ ۔ ان کا حق واجب ہے اور ان کے ساتھ رشتہ جوڑنا لازم ہے ۔ "
1۔شریعت نے ماں کے حقوق کو تین گنا بتایا ہے۔اور باپ کے حقوق کو ایک چوتھائی مگر اسے جنت (میں داخلے) کا بہترین دروازہ قرار دیا ہے۔ (دیکھئے۔مسند احمد۔196/5و445/6۔448۔451) غلام اور اس کے مالک کا تعلق آذاد کر دینے کے بعد بھی قائم رہتا ہے۔جسے تعلق ولا کہتے ہیں۔اور آزاد ہونے پر واجب ہوتا ہے کہ اپنے آذاد کرنے والے کے ساتھ حتیٰ الامکان حسن سلوک کرتا رہے۔2۔اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ صاحب ایمان کو کبھی کسی کا احسان نہیں بھولنا چاہیے۔