فهرس الكتاب

الصفحة 5145 من 5274

كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل

باب: ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان

5145 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ السَّائِبِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا فَأَقْبَلَ أَبُوهُ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَوَضَعَ لَهُ بَعْضَ ثَوْبِهِ فَقَعَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَتْ أُمُّهُ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَوَضَعَ لَهَا شِقَّ ثَوْبِهِ مِنْ جَانِبِهِ الْآخَرِ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ أَخُوهُ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَامَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ

جناب عمر بن سائب سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ایک حصہ ان کے لیے بچھا دیا تو وہ اس پر بیٹھ گئے ۔ پھر آپ ﷺ کی رضاعی والدہ آئیں تو آپ نے اس چادر کی دوسری جانب بچھا دی اور وہ اس پر بیٹھ گئیں ۔ پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو رسول اللہ ﷺ اس کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کو اپنے سامنے بٹھا لیا ۔

یہ روایت بھی ضعیف ہے۔تاہم رضاعی والدین اور رضاعی بہن بھایئوں کے ساتھ بھی صلہ رحمی شرعی واجبات میں سے ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت