5165 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا ح و حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَى حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْقَاسِمِ نَبِيُّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ جُلِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَدًّا قَالَ مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا عِيسَى عَنْ الْفُضَيْلِ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا ابوالقاسم نبی التوبہ ﷺ نے بیان فرمایا " جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی حالانکہ وہ اس سے بری تھا جو اس کے بارے میں کہا گیا تھا تو اس ( مالک ) کو قیامت کے دن حد لگائی جائے گی ۔ " مؤمل ( مؤمل بن فضل ) نے سند یوں بیان کی «حدثنا عيسى عن الفضيل يعني ابن غزوان»
رسول اللہ ﷺکی ایک صفت نبی التوبۃ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس اُمت کی توبہ ندامت اور الفاظ سے قبول کرلی جاتی ہے۔جبکہ سابقہ امتوں میں بعض اوقات اپنے آپ کو قتل کرنے سے قبول ہوتی تھی۔ایک معنی یہ بھی لکھے گئے ہیں۔کہ اس سے مراد ایمان وعمل ہے۔جبکہ انسان نے کفر وفسق سے رجوع کیا ہو۔