فهرس الكتاب

الصفحة 5183 من 5274

كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل

باب: اجازت طلب کرتے ہوئے آدمی کتنی بار السلام علیکم کہے ؟

5183 حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ابْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ... بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي مُوسَى: إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ، وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ!

جناب ابوبردہ نے اپنے والد سیدنا ابوموسیٰ ؓ سے مذکورہ قصہ روایت کیا ۔ اس میں ہے کہ پھر سیدنا عمر ؓ نے سیدنا ابوموسیٰ ؓ سے کہا: بلاشبہ میں تم پر کسی طرح کی تہمت نہیں لگا رہا ( کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو ) لیکن رسول اللہ ﷺ سے حدیث نقل کرنے کا معاملہ بڑا سخت ( اور اہم ) ہے ۔

فتوی ،خطبہ اور تحریرمیں پیش کی جانے والی احادیث معتبر اور باحوالہ ہوں تو بہتر ہے اور اصحاب الحدیث بحمد اللہ تعالی ہر دور میں یہی فریضہ انجام دیتے رہے ہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت