5184 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مَنْ عُلَمَائِهِمْ فِي هَذَا, فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي مُوسَى: أَمَا إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ, وَلَكِنْ خَشِيتُ أَنْ يَتَقَوَّلَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ!.
جناب ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن اور کئی ایک محدثین سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ؓ نے سیدنا ابوموسیٰ ؓ سے کہا: میں آپ پر کوئی تہمت نہیں لگا رہا ، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف ویسے ہی احادیث کی نسبت نہ کرنے لگیں ۔
فتوی'خطبہ اور تحریر میں پیش کی جانے والی احادیث معتبر اور باحوالہ ہوں تو بہت بہتر ہے اور اصحاب الحدیث بحمد اللہ تعالٰی ہر دور میں یہی فریضہ سر انجام دیتے رہے ہیں۔کثر اللہ سوادہم