5254 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَجَدَ بَعْدَ ذَلِكَ- يَعْنِي: بَعْد مَا حَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ- حَيَّةً فِي دَارِهِ، فَأَمَرَ بِهَا، فَأُخْرِجَتْ.- يَعْنِي: إِلَى الْبَقِيعِ-.
جناب نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو لبابہ ؓ کی مذکورہ بالا حدیث معلوم ہونے کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کو دیکھا گیا کہ انہوں نے اپنے گھر میں سانپ دیکھا (تو اسے قتل نہیں کیا بلکہ) اس کے متعلق حکم دیا اور بقیع کی طرف بھگا دیا۔
صحابہ کرام رضی اللہ کی سب سے بڑی فضیلت یہی تھی کہ وہ فرمان رسول ﷺمعلوم ہو جانے کے بعد اس سے کسی طرح سرتابی کرتے تھےاور تمام اصحاب ایمان کو ایسے ہونا چاہیے ۔