فهرس الكتاب

الصفحة 5256 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: سانپوں کو مارنے کا بیان

5256 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ يَعُودَانِهِ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيَنَا صَاحِبٌ لَنَا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ فَأَقْبَلْنَا نَحْنُ فَجَلَسْنَا فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْهَوَامَّ مِنْ الْجِنِّ فَمَنْ رَأَى فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فَلْيُحَرِّجْ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ عَادَ فَلْيَقْتُلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ

جناب محمد بن ابو یحییٰ روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ وہ اور ان کا ایک ساتھی سیدنا ابوسعید ؓ کی عیادت کے لیے گئے ۔ پھر ہم ان کے ہاں سے نکلے تو ہمیں ہمارا ایک ساتھی ملا جو سیدنا ابوسعید ؓ کے ہاں جا رہا تھا ۔ چنانچہ ہم آ کر مسجد میں بیٹھ گئے تو ہمارا وہ ساتھی بھی آ گیا ۔ اس نے بتایا کہ اس نے سیدنا ابوسعید خدری ؓ سے سنا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے " بلاشبہ کئی سانپ جن ہوتے ہیں ۔ چنانچہ جو کوئی اپنے گھر میں کچھ دیکھے تو چاہیئے کہ اسے تین بار متنبہ کرے ، اگر وہ پھر نظر آئے تو مار ڈالے ۔ بلاشبہ وہ شیطان ہے ۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت