فهرس الكتاب

الصفحة 5261 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: سانپوں کو مارنے کا بیان

5261 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهَا إِلَّا الْجَانَّ الْأَبْيَضَ الَّذِي كَأَنَّهُ قَضِيبُ فِضَّةٍ قَالَ أَبُو دَاوُد فَقَالَ لِي إِنْسَانٌ الْجَانُّ لَا يَنْعَرِجُ فِي مِشْيَتِهِ فَإِذَا كَانَ هَذَا صَحِيحًا كَانَتْ عَلَامَةً فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

سیدنا ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ سب قسم کے سانپوں کو قتل کر دیا کرو ۔ سوائے ان کے جو سفید چاندی کی چھڑی کی مانند ہوں ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک شخص نے بتایا کہ سانپ کی شکل میں جن اپنے چلنے میں ٹیڑھا ہو کر نہیں چلتا ہے ۔ اگر وہ بالکل سیدھا چلے تو انشاءاللہ یہ اس کے جن ہونے کی علامت ہو گی ۔

روایت موقوف ہے اور انتہائی سفید چمکدارسانپ شاید مدینہ منورہ سے مخصوص ہوں اور ان کی چال سےاندازہ لگاسکتا ہے کہ جن ہے یاسانپ ؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت