فهرس الكتاب

الصفحة 544 من 5274

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

باب: اگر اقامت کے بعد امام نہ پہنچا ہو تو مقتدی حضرات بیٹھ کر اس کا انتظار کریں

544 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ.

سیدنا انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہ دی گئی اور رسول اللہ ﷺ مسجد کی ایک جانب میں ( کسی کے ساتھ ) سرگوشی میں مشغول رہے اور نماز کے لیے آئے تو لوگوں کو نیند آ رہی تھی ۔

اس قدر طویل انتظار رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت ہے۔تاہم اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تکبیر کے بعد امام کسی سے ضروری بات میں مشغول ہوجائے تو ادب واحترام کا تقاضا ہے۔ کہ امام کا انتظار کیا جائے۔اور اس پر امام کو مطعون نہ کیا جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت