فهرس الكتاب

الصفحة 667 من 5274

کتاب: صف بندی کے احکام ومسائل

باب: صفیں سیدھی کرنے کا مسئلہ

667 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ

سیدنا انس بن مالک ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " اپنی صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہوا کرو ۔ انہیں قریب قریب بناؤ اور گردنوں کو بھی برابر رکھو ۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں شیطان کو دیکھتا ہوں کہ خالی جگہوں میں سے تمہاری صفوں میں گھس آتا ہے گویا وہ بکری کا بچہ ہو ۔ "

شیطان مومنین مخلصین پرہرآن مقام پرحملے کےلیے گھات میں رہتا ہےجب وہ نماز کی صفوں سے گھس آتا ہےتومسجد سےباہر اورعام حالات میں اس کاحملہ اورسخت ہوتا ہوگا لہذا ہرمسلمان کواپنے دفاع سےکبھی غافل نہیں رہنا چاہیے اوراس کی واحد صورت شریعت کا علم حاصل کرنا اور پھر تمام چھوٹے بڑے امور پربلا تخصیص عمل پیرا ہونا ہے۔ و باللہ التوفیق .

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت