711 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنْ اللَّيْلِ وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ رَاقِدَةٌ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَرْقُدُ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَهَا فَأَوْتَرَتْ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ رات کو اپنی نماز پڑھتے اور وہ آپ ﷺ کے اور قبلے کے درمیان بستر پر ہوتی تھیں جس پر کہ آپ ﷺ سوتے تھے ، حتیٰ کہ جب آپ ﷺ وتر پڑھنا چاہتے تو انہیں جگا دیتے- تب وہ ( بھی اٹھ کر ) وتر پڑھ لیتیں ۔
معلوم ہواکہ بیوی اگر شوہر کےقریب یا سامنے لیٹی ہوئی ہوتو نماز صحیح ہے۔گذشتہ حدیث: ( 694 ) کا اشکال بھی اس سے دور ہوجاتا ہے۔یعنی اگر سامنے کوئی سویا ہوا ہوتو نمازی کی نماز صحیح ہے۔