746 حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَقَ الْمَعْنَى عَنْ عِمْرَانَ عَنْ لَاحِقٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَوْ كُنْتُ قُدَّامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَأَيْتُ إِبِطَيْهِ زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ يَقُولُ لَاحِقٌ أَلَا تَرَى أَنَّهُ فِي الصَّلَاةِ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَكُونَ قُدَّامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ يَعْنِي إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ
جناب بشیر بن نہیک کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے کہا: اگر میں نبی کریم ﷺ کے آگے ہوتا تو میں آپ کی بغلیں دیکھ سکتا تھا ۔ ( یعنی آپ ﷺ کے ہاتھ رفع یدین کے وقت نمایاں طور پر بغلوں سے علیحدہ ، دور اور اونچے ہوتے تھے ۔ ) ابن معاذ نے کہا کہ لاحق نے کہا: بھلا سیدنا ابوہریرہ ؓ نماز میں ہوتے ہوئے نبی کریم ﷺ سے آگے کیوں کر ہو سکتے تھے ؟ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے: ( مقصد یہ ہے کہ ) جب آپ ﷺ تکبیر کہتے تو ہاتھ اونچے کرتے تھے ( یعنی نمایاں طور پر اونچے کرتے تھے ) ۔