فهرس الكتاب

الصفحة 764 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: نماز شروع کرتے ہوئے کون سی دعا پڑھی جائے ؟

764 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً قَالَ عَمْرٌو لَا أَدْرِي أَيَّ صَلَاةٍ هِيَ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثًا أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ قَالَ نَفْثُهُ الشِّعْرُ وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ وَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ

جناب ابن جبیر بن مطعم اپنے والد ( جبیر بن مطعم ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک نماز پڑھتے دیکھا ، عمرو نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ یہ کون سی نماز تھی ، تو آپ نے تین بار کہا: «الله أكبر كبيرا الله أكبر كبيرا الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» " اللہ سب سے بڑا اور بہت بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا اور بہت بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے اور بہت بڑا ہے اور حمد اللہ ہی کی ہے ، بہت زیادہ ، حمد اللہ ہی کی ہے اور بہت زیادہ ، حمد اللہ ہی کی ہے بہت زیادہ ۔ اور وہ سب عیوب سے پاک ہے ۔ صبح و شام اس کی یہ ثنا ہے ۔ " ( اور بعد میں یہ کلمات بھی پڑھتے ) «أعوذ بالله من الشيطان من نفخه ونفثه وهمزه» " میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان کے دم ، پھونک اور جنون سے ۔ " ( جناب عمرو بن مرہ نے ان الفاظ کی شرح میں ) کہا کہ «نفث» سے مراد لغو قسم کی شعر و شاعری ہے «نفخ» کا مفہوم تکبر کی انگیخت ہے اور «همز» کا معنی جنون ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت