فهرس الكتاب

الصفحة 773 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: نماز شروع کرتے ہوئے کون سی دعا پڑھی جائے ؟

773 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ نَحْوَهُ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَمِّ أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسَ رِفَاعَةُ لَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ رِفَاعَةُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ مَنْ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَأَتَمَّ مِنْهُ

جناب معاذ بن رفاعہ بن رافع اپنے والد سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہمیں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو رفاعہ کو چھینک آ گئی ( استاد ) قتیبہ نے رفاعہ کا نام نہیں لیا ، تو میں نے کہا: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه ك يحب ربنا ويرضى» " تعریف اللہ کی ہے بہت زیادہ تعریف ، پاکیزہ اور بابرکت ( یعنی باقی رہنے والی ) جیسے کہ ہمارا رب پسند فرمائے اور جس پر راضی اور خوش ہو ۔ " جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: " نماز میں کون بول رہا تھا ؟ " پھر مالک کی حدیث کی مانند بیان کیا اور اس سے کامل تر بیان کیا ۔

حدیث مالک سے مراد پیچھے گزری ہوئی (قعنبی عن مالک والی ھدیث نمبر 769ہے۔معلوم ہواکہ نماز میں چھینک آئے۔ تو مذکورہ دعا یا(الحمد للہ) کہنا مباح ہے۔ان دونوں احادیث (یعنی حدیث نمبر 770۔اور773) کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔کہ شاید رکوع سے اٹھنے اور چھینک آنے کا وقت ایک ہی تھا۔ کہ جناب رفاعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کلمات کہے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت