فهرس الكتاب

الصفحة 802 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: نماز ظہر میں قرآت کا بیان

802 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى لَا يُسْمَعَ وَقْعُ قَدَمٍ

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی نماز کی پہلی رکعت میں اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ قدموں کی آوازیں نہ سنتے تھے ۔

ظہراور عصر کی آخری رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پر کفایت کرنا اور مزید پڑھنا بھی درست ہے جیسے کہ آگے آرہا ہے ۔دیکھیے (حدیث نمبر -804) 2۔سری نماز میں امام کے لیے مستحب ہے کہ اپنی قراءت میں سے کبہی کوئی آیت قدر اورنچی آوازسے پڑھ دیا کرے۔3.پہلی رکعت کو دوسری کی نسبت قدرے لمبا کرنا مستحب ہے۔4.امام اگر نیت سے قراءت کو طول دے کہ لوگ رکعت میں مل جائیں یہ مباح ہے۔5۔سری قراءت میں ضروری ہے کہ الفاظ زبان سے اداہوں'نہ کہ ہونٹ بند کرکے الفاظ پر تفکر کرنا'کیونکہ نبیﷺکی داڑی مبارک اثنائے قراءت میں حرکت کرتی تھی۔6۔معلوم ہوا کہ ؟آپﷺکی داڑی مبارک اس قدر لمبی تھی کہ قراءت کرنے سے اس میں حرکت ہوتی تھی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت