883 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَرَأَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قَالَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى قَالَ أَبُو دَاوُد خُولِفَ وَكِيعٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَرَوَاهُ أَبُو وَكِيعٍ وَشُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا
سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب «سبح اسم ربك الأعلى» " اپنے رب اعلیٰ کی تسبیح بیان کیجئے ۔ " کی تلاوت کرتے تو ( جوابًا ) فرماتے «سبحان ربي الأعلى» " پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند و بالا ہے ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں وکیع کی مخالفت کی گئی ہے ۔ ابو وکیع اور شعبہ نے اسے بواسطہ «أبي إسحاق عن سعيد بن جبير عن ابن عباس» موقوفًا بیان کیا ہے ۔
نمازاور غیرنماز میں آیات کا جواب ثابت ہے'ان مین سےایک مقام یہ بھی ہے-2.یہ حدیث صرف قاری یعنی فراءت اور تلاوت قرآن کرنےہے-اس سے مقتدی یاسامعکا جواب دینا بہر حال ثابت نہیں ہوتا-اس لیے مقتدی اور سامع کیلے بہترہےکہ وہ جواب دینے سے اجتناب کرے -واللہ اعلم-