882 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقُمْنَا مَعَهُ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
سیدنا ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہو گئے تو ایک بدوی نے نماز میں یوں کیا «اللهم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا» " اے اللہ ! مجھ پر رحم فر اور محمد ﷺ پر ، اور ہمارے ساتھ کسی پر رحم نہ فر ۔ " جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو اس بدوی سے کہا " تو نے وسیع چیز کو تنگ کر دیا ۔ " آپ ﷺ کا اشارہ ، اللہ عزوجل کی رحمت کی طرف تھا ۔
اس انداز سے دعا نہیں کرنی چاہیے۔اور یہ دعا کرنے والا ہی اعرابی تھا جس نے مسجد میں پیشاب کردیا تھا۔ جیس کہ جامع الترمذی کی حدیث ـ (147) سے معلوم ہوتا ہے۔