فهرس الكتاب

الصفحة 980 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: تشہد کے بعد نبی ﷺ کے لیے صلاۃ( درود)کا بیان

980 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >قُولُوا...فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

سیدنا ابومسعود انصاری ؓ نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں سعد بن عبادہ ؓ کی مجلس میں تشریف لائے تو سیدنا بشیر بن سعد ؓ نے آپ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر صلاۃ پڑھیں ۔ تو یہ کس طرح پڑھیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے ( اور دیر تک خاموش رہے ) حتیٰ کہ ہم نے چاہا کہ کاش وہ سوال ہی نہ کیا ہوتا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " یوں کہا کرو ۔ " اور کعب بن عجرہ کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور اس کے آخر میں «إنك حميد مجيد» زیادہ کیا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت