فهرس الكتاب

الصفحة 1026 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: جب دو یا تین رکعات میں شک ہو تو شک کو چھوڑ دے

1026 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى, ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا! فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ، وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَإِنْ كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً, شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً, فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ.

جناب عطاء بن یسار ( تابعی ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور معلوم نہ رہے کہ کتنی نماز پڑھی ہے ، تین یا چار ؟ تو اسے چاہیے کہ ایک رکعت پڑھے اور دو سجدے کرے جبکہ وہ بیٹھا ہوا ہو ، سلام سے پہلے ۔ اگر اس کی یہ رکعت پانچویں ہوئی تو ان سجدوں کے ساتھ مل کر دوگانہ ہو جائے گی اور اگر چوتھی ہی ہوئی تو یہ سجدے شیطان کی رسوائی کا باعث ہوں گے ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت