1443 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ
جناب عکرمہ سے سیدنا ابن عباس ؓ کا یہ بیان منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینہ متواتر ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر کی نمازوں میں قنوت پڑھی ۔ ہر نماز کی آخری رکعت میں رکوع سے «سمع الله لمن حمده» کہنے کے بعد بنو سلیم میں سے رعل ، ذکوان اور عصیہ کے قبائل پر بد دعا کرتے تھے اور آپ کے پیچھے والے آمین کہتے تھے ۔
1۔سری نمازوں میں بھی قنوت جہری (بلند آواز سے) پڑھا جائے گا۔اور مقتدی آمین کہیں گے۔2۔رعل۔زکوان۔اور عصیہ وہ قبائل ہیں۔ جنہوں نے اصحاب بئر معونہ پر حملہ کرکے انہیں شہید کرڈالا تھا۔