فهرس الكتاب

الصفحة 3916 من 5274

کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل

باب: بدشگونی کا بیان

3916 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قَالَ قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ قَوْلُهُ هَامَ قَالَ كَانَتْ الْجَاهِلِيَّةُ تَقُولُ لَيْسَ أَحَدٌ يَمُوتُ فَيُدْفَنُ إِلَّا خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ هَامَةٌ قُلْتُ فَقَوْلُهُ صَفَرَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْتَشْئِمُونَ بِصَفَرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَفَرَ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ سَمِعْنَا مَنْ يَقُولُ هُوَ وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ فَكَانُوا يَقُولُونَ هُوَ يُعْدِي فَقَالَ لَا صَفَرَ

محمد بن راشد نے «هام» کی وضاحت میں کہا: اہل جاہلیت سمجھتے تھے کہ مردہ جب دفن کیا جاتا ہے تو اس کی قبر سے ایک الو نکلتا ہے ۔ «صفر» کے متعلق پوچھا تو کہا: اہل جاہلیت ( اس مہینہ ) صفر کو منحوس سمجھتے تھے ، تو نبی کریم ﷺ نے اس کی نفی فر دی ۔ محمد بن راشد نے کہا: ہم نے کئی لوگوں سے سنا ہے کہ اس سے مراد " پیٹ کا درد " ہے اور وہ اسے متعدی سمجھتے تھے تو فرمایا گیا کہ " کوئی صفر نہیں ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت