باب:...
4000 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ مَعْمَرٌ وَرُبَمَا ذَكَرَ ابْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يَقْرَءُونَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ وَأَوَّلُ مَنْ قَرَأَهَا مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ مَرْوَانُ قَالَ أَبُو دَاوُد هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ وَالزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ
جناب زہری ؓ بسا اوقات ابن مسیب سے روایت کرتے تھے ، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ ، ابوبکر ، عمر اور عثمان ؓم «ملك يوم الدين» پڑھا کرتے تھے ( سورۃ فاتحہ میں ، «ملك» بروزن فاعل ۔ ) اور مروان سب سے پہلا شخص ہے جس نے یہ «ملك يوم الدين» پڑھا ۔ ( " الف " کے بغیر بروزن فعل ۔ ) امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ یہ سند «الزهري عن أنس والزهري عن سالم عن أبيه» کی بہ نسبت زیادہ صحیح ہے ۔
یہ روایت سنداضعیف ہے۔ مالک کامعنی صاحب ملکیت اور ملک کامعنی بادشاہ ہے