فهرس الكتاب

الصفحة 4001 من 5274

کتاب: قرآن کریم کی بابت لہجوں اور قراءتوں کا بیان

باب:...

4001 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ أَوْ كَلِمَةً غَيْرَهَا قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً آيَةً قَالَ أَبُو دَاوُد سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَقُولُ الْقِرَاءَةُ الْقَدِيمَةُ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ ؓا نے رسول اللہ ﷺ کی قرآت کا ذکر کیا «بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين» آپ ﷺ اپنی قرآت میں ایک ایک لفظ علیحدہ علیحدہ کر کے پڑھتے تھے ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں میں نے امام احمد ؓ سے سنا ' وہ فرماتے تھے: قدیم قرآت ( سلف کی قرآت «ملك يوم الدين» ہی ہے ۔

یہ روایت سندا ضعیف ہے تاہم معنا صیح ہے کیونکہ دیگر صحیح احادیث میں یہی چیز بیان ہوئی ہے کہ قرآن مجید کی قراءت میں چاہیےکہ ہرہر آیت پر وقف کیاجائے اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے۔انتہائی تیز پڑھنا اور آیات پر وقف نہ کرنا مسنون طریقے کے خلاف ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت