باب:...
4004 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَرَأَ هَيْتَ لَكَ فَقَالَ شَقِيقٌ إِنَّا نَقْرَؤُهَا هِئْتُ لَكَ يَعْنِي فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَقْرَؤُهَا كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَيَّ
جناب شقیق سے روایت ہے کہ سیدنا ابن مسعود ؓ نے پڑھا «هيت لك» ( " ھا " پر زبر کے ساتھ ) شقیق کے کہا ہم اسے «هيت لك» پڑھتے ہیں ( یعنی " ھا " کے نیچے زیر کے ساتھ ) تو ابن مسعود ؓ نے کہا: جیسے پڑھایا گیا اسی طرح پڑھنا مجھے زیادہ محبوب ہے ۔
سورہ یوسف کی آیات: 23 میں مذکورہ بالا کلمے کی یہ دوقراءتیں وارد ہیں ۔ جمہور کی قراءت ھا پرزبر کےساتھ ہے اور یہ عزیزمصرکی بیوی کا بول ہے جو اس نے حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا تھا لو آجاو