فهرس الكتاب

الصفحة 4014 من 5274

کتاب: حمامات( اجتماعی غسل خانوں)سے متعلق مسائل

باب: عریاں اور برہنہ ہونا حرام ہے

4014 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ جَرْهَدٌ هَذَا مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ قَالَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَنَا وَفَخِذِي مُنْكَشِفَةٌ فَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ

جناب زرعہ اپنے والد عبدالرحمٰن بن جرہد سے روایت کرتے ہیں اور یہ جرہد ؓ اصحاب صفہ میں سے تھے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں بیٹھے ہوئے تھے اور میری ران ننگی ہو رہی تھی ' تو آپ ﷺ نے فرمایا " کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ران قابل ستر ہوتی ہے ۔ " ( یعنی اسے چھپانا چاہیئے ) ۔

مرد کی ران ستر میں شامل ہے ،اس لیے چاہیے کہ کھیل وغیرہ میں لمبا جانگیا پہنا جائے ۔ اسی طرح جسم پر فٹ لباس یا جس سے جسم جھلکتا ہو بھی جائز نہیں ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت