فهرس الكتاب

الصفحة 4155 من 5274

کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل

باب: تصاویر سے متعلق احکام و مسائل

4155 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنْ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ

سیدنا ابوطلحہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " بلاشبہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو ۔ " جناب بسر بن سعید نے کہا: پھر ایسے ہوا کہ ( اس حدیث کے راوی یعنی ہمارے شیخ ) زید بن خالد بیمار ہو گئے اور ہم ان کی عیادت کو گئے تو دیکھا کہ ان کے دروازے پر پردہ ہے اور اس میں تصویر تھی ۔ میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا: جو کہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ ؓا کے پروردہ تھے ' بھلا زید نے گزشتہ دن تصویروں کے متعلق حدیث بیان نہیں کی تھی ؟ تو عبیداللہ نے کہا: تو کیا تم نے سنا نہیں تھا جبکہ انہوں نے کہا: تھا الا یہ کہ کسی کپڑے پر کوئی نقش و نگار ہو ۔

بنیادی بات یہی ہے کہ ذی روح اشیا کی تصویروں اور صلیب یا معبود ان باطلہ کے نشانات کو بطور زینت لٹکانا ناجائز ہے لیکن اگر کپڑے پر یاکسی ایسی حالت میں ہوں جہاں ا ن کی امانت ہو رہی ہو تو مباح ہے تاہم پچنا پھر بھی افضل ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت