4156 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَنَّ إِسْمَعِيلَ بْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا فَلَمْ يَدْخُلْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا
سیدنا جابر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر بن خطاب ؓ کو فتح مکہ کے موقع پر حکم دیا جبکہ آپ ﷺ خود وادی بطحاء میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ کعبہ میں جائیں اور اس میں موجود سب تصویروں کو مٹا ڈالیں ۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ ان تصویروں کے مٹا دیے جانے تک اس میں داخل نہیں ہوئے تھے ۔
کچھ لوگ کیمرے کی تصویروں کو جائز کہتے ہیں اور ان تصویروں کو ہی ناجائزسمجھتے ہیں جن کا جسم ٹھوس اور سایہ دار ہو تو اس حدیث میں ان کی تردید ہے کہ دیواروں پر بنی تصویروں کا کوئی جسم نہ تھااور انہیں مٹانے کا حکم ویڈیوفلم وغیرہ کا ہے ۔