فهرس الكتاب

الصفحة 4618 من 5274

کتاب: سنتوں کا بیان

باب: اتباع سنت کی دعوت دینے( کی اہمیت )کا بیان

4618 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ:، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا الْحَسَنُ مَكَّةَ، فَكَلَّمَنِي فُقَهَاءُ أَهْلِ مَكَّةَ, أَنْ أُكَلِّمَهُ فِي أَنْ يَجْلِسَ لَهُمْ يَوْمًا يَعِظُهُمْ فِيهِ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَاجْتَمَعُوا، فَخَطَبَهُمْ، فَمَا رَأَيْتُ أَخْطَبَ مِنْهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا سَعِيدٍ! مَنْ خَلَقَ الشَّيْطَانَ؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ, خَلَقَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ، وَخَلَقَ الْخَيْرَ وَخَلَقَ الشَّرَّ؟! قَالَ الرَّجُلُ: قَاتَلَهُمْ اللَّهُ كَيْفَ يَكْذِبُونَ عَلَى هَذَا الشَّيْخِ؟!

جناب حمید نے بیان کیا کہسیدنا حسن بصری ؓ مکہ آئے تو وہاں کے علماء و فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے یہ کہوں کہ وہ ایک دن ہمیں وعظ سنائیں ۔ تو انہوں نے قبول کر لیا ۔ چنانچہ وہ جمع ہو گئے اور حسن بصری ؓ نے درس دیا تو میں نے ان سے بڑھ کر کسی کو خطیب نہ پایا ۔ ایک آدمی نے پوچھا: ابوسعید ! شیطان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ وہ کہنے لگے سبحان اللہ ! بھلا اللہ کے سوا بھی کوئی خالق ہے ؟ اللہ ہی نے شیطان کو پیدا کیا ہے ۔ خیر اور شر کا خالق وہی ہے ۔ تو وہ آدمی کہنے لگا: اللہ ان کو ہلاک کرے ( نامعلوم ) کس بنا پر وہ اس شیخ پر جھوٹ بولتے ہیں ۔

خالق صرف اللہ تعالی ہے۔ہر چیز اس نے پیدا کی ہے۔اندھیرا نہ ہوتو نور کی پہچان ممکن نہیں۔شر نہ ہوتو خیر کی خوبی کیسے معلوم ہو

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت