فهرس الكتاب

الصفحة 100 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

چاندی کی انگوٹھی پہننے کے بارے میں کیا حکم ہے اور اگر یہ جائز ہے توا سے دائیں بائیں ہاتھ میں پہنا جائے یا بائیں ہاتھ میں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

مردوں اور عورتوں کے لیے چاندی کی انگوٹھی پہننے میں کوئی حرج نہیں اور دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں میں پہننا جائز اور دائیں ہاتھ میں افضل ہے'کیونکہ دایاں ہاتھ اشرف ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی دائیں ہاتھ میں اور کبھی بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہن لیا کرتے تھے اور آپ ہی کی ذات گرامی ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہے۔ سونے کی انگوٹھی یا گھڑی مردوں کے لیے جائز نہیں 'یہ عورتوں کے لیے جائز ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ سونا اور ریشم مردوں کے لیے حرام مگر عورتوں کے لیے حلال ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص274

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت