فهرس الكتاب

الصفحة 399 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

مشت زنی کے بارے میں کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

استمناءبالیدیعنی مشت زنی حرام ہے ،ہر مسلمان کے لئے اس سے اجتناب کرنا واجب ہے کیونکہ یہ فعل حسب ذیل ارشادباری تعالی کے خلاف ہے:

{وَالَّذینَ ہُم لِفُر‌وجِہِم حـٰفِظونَ 5} إِلّا عَلیٰ أَزو‌ٰجِہِم أَو ما مَلَکَت أَیمـٰنُہُم فَإِنَّہُم غَیرُ‌ مَلومینَ {6} فَمَنِ ابتَغیٰ وَر‌اءَ ذ‌ٰلِکَ فَأُولـٰئِکَ ہُمُ العادونَ {7} ... سورة المؤمنون

''اورجو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی ملک ہوتی ہیں کہ (ان سے مباشرت کرنے سے) انہیں ملامت نہیں اورجو ان کے سوااورروں کے طالب ہوں ،وہ (اللہ کی مقررکی ہوئی) حد سے نکل جانے والے ہیں۔''

اوریہ اس لئے بھی حرام ہے کہ اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں،

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص398

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت