السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
ایک شخص نے ایک مکان نا جائز روپے سے تعمیر کرایا ، اب جس شخص کو یہ علم ہو، کہ یہ مکان نا جائز روپے سے تعمیر کرایا گیا ہے اس کو اس مکان میں کرایہ دے کر رہنا ، اور اس میں نماز پڑھنا جائز ہے کہ نہیں ؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
مالک مکان متغلب ہے اس کا حکم یہ ہے کہ کرایہ دار بالعوض رہے تو اس کو جائز ہے مالک گنہگار ہے یہ مضمون حدیث ہل ترک عقیل شیئًا سے ماخوذ ہے،
واللہ اعلم، (۱۶شوال ۳۵ء)
فتاویٰ ثنائیہ
جلد 2 ص 441