فهرس الكتاب

الصفحة 1177 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک شخص نے ایک مکان نا جائز روپے سے تعمیر کرایا ، اب جس شخص کو یہ علم ہو، کہ یہ مکان نا جائز روپے سے تعمیر کرایا گیا ہے اس کو اس مکان میں کرایہ دے کر رہنا ، اور اس میں نماز پڑھنا جائز ہے کہ نہیں ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

مالک مکان متغلب ہے اس کا حکم یہ ہے کہ کرایہ دار بالعوض رہے تو اس کو جائز ہے مالک گنہگار ہے یہ مضمون حدیث ہل ترک عقیل شیئًا سے ماخوذ ہے،

واللہ اعلم، (۱۶شوال ۳۵ء؁)

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 441

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت