السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
یہاں آگرہ میں پکا چمڑہ فروخت کرنے والوں نے ایک انجمن قائم کی ہے اس انجمن کے کچھ قواعد ہیں۔منجملہ ان کے تین یہ ہیں۔
1۔جو کوئی نئی دکان کھولتا ہے۔اس سے سوا سو روپیہ چندہ لیاجاتا ہے۔اگر کوئی نہ دے تو مخبر ان کو اس کے ہاتھ فروخت نہیں کرتے ۔
2۔ہر ایک دوکاندار سے چار آنے چندہ لیاجاتا ہے۔
3۔جو مخبر انجمن کے قواعد کی خلاف ورزی کرے۔اس کو جرمانہ کیاجاتاج ہے۔اور یہ آمدنی ایک جگہ جمع رہتی ہے۔جو انجمن کی ضروریات میں خرچ کی جاتی ہے۔
اب دریافت طلب امریہ ہے کہ ایسی انجمن میں شامل ہونااور چندہ دینا جائز ہے یانہیں۔؟
1۔مزید معلومات کیلئے اگلے صفحات پرمولناٰ عبد السلام بستوی کافتویٰ ملاحظہ فرمائیں۔12راز۔مرحوم
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
بغرض رفاہ عامہ پر یا بغرض انتظام یہ شروط ہیں تو جائز ہے اور اگر یہ اور کسی ناجائز کام ۔ناچ۔رنگ۔میں خرچ ہو تو ناجائز ہے۔
)6 شعبان۔سنہ1347ھ) (فتاویٰ ثنائیہ جلد ثانی صفحہ نمبر 431(
فتاویٰ علمائے حدیث
جلد 14 ص 55
محدث فتویٰ