فهرس الكتاب

الصفحة 1183 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک شخص کو واسطے چاندی خریدنے کے روپیہ دیا گیا بعد وہ اس شخص نے دہلی سے واپس آکر یہ بیان دیا کہ چاندی میں نے کچھ اپنے واسطے خرید کی تھی اور کچھ چاندی دوسرےشخص کے واسطے خریدی تھی وہ بھول میں کسی جگہ گم ہو گئی ، اس صورت میں اس چاندی کے روپے مطابق شرع کے لینے چاہیئں یا نہیں ؟

(صوفی عبداللہ مہتمم مدرسہ اہلحدیث از قصبہ ٹانڈہ بادلی)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جس کو روپیہ دیا تھا وکیل بنا کر دیا تھا یا بطور بیع سلم دیا تھا وکیل بنانے کا مطلب یہ ہے کہ جس بھاؤ سے چاندی اس کو ملے ، وہ مالک کی ہوگی ، اس میں نفع و نقصان کا سارا ذمہ مالک پر ہو گا یہ صورت ہے تو نقصان کا عوض اس پر واجب الادانہ ہوگا ، اور بطور بیع سلم دینے کا مطلب یہ ہے کہ خرید کر دہ چاندی اس شخص کی ہے ، روپے والا اس سے بھاؤ کر کے لے گا ، یعنی دہلی میں مشتری تھا تو یہاں بائع ایسی صورت میں نقصان اس کا ہے ، روپیہ دینے والے کا نہیں ، واللہ اعلم.

(بحوالہ ۲۷محرم ۱۶۴۷ء؁)

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 446

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت