فهرس الكتاب

الصفحة 1245 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

فقہ میں ایسے دلائل موجود ہیں جن سےمعلوم ہوتاہے کہ جانوروں اور مویشیوں کے چہروں پر داغ لگانا حرام ہے لیکن ہم بادیہ نشین لوگ اپنےجانوروں کو داغ لگانے پر مجبور ہیں تاکہ وہ چراگاہ میں دوسرے لوگوں کے جانوروں کے ساتھ خلط ملط نہ ہو جائیں اور پھر اس طرح کے داغ لگے ہوئےجانوروں کا چوروں کےلیےچرانا اور انہیں فروخت کرنا بھی مشکل ہوتاہے ۔ تو کیا ان صورتوں میں جانوروں کو داغ لگانا جائز ہے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ہاں سوال میں مذکور ہ غرض کے لیے جانوروں کو داغ لگانا جائزہے بشرطیکہ داغ چہرے پر نہ لگایا جائے کیونکہ امام بخاری و مسلم رحمہ اللہ علیہم نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ‎حاضر ہوا تو آپ کے ہاتھ میں ‎داغ لگانے والا آلہ تھا ، جس کے ساتھ آپ صدقہ کے اونٹوں کو داغ لگارہے تھے۔ (( صحیح البخاری ، الزکاۃ ، باب وسم الامام ابل ، حدیث 1502 وصحیح مسلم ، اللباس ،باب جواز وسم الحیوان ، حدیث2119 ) )احمد اور ابن ماجہ کی حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بکریوں کے کانوں پر داغ لگارہے تھے ۔ (مسند احمد ، 3؍171 وسنن ابن ماجہ ، اللباس ، باب لبس الصوف ، حدیث 3565) جہاں تک چہرے پر داغ لگانے کاتعلق ہے ، تو یہ جائز نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے (صیح مسلم ، اللباس ، باب النہی عن ضرب الحیوان فی وجہہ ، حدیث 2116،2117)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص469

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت