فهرس الكتاب

الصفحة 1345 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اگر بیع مکمل نہ ہو تو بائع کے بیعانہ لینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ دو شخص آپس میں بیع کرتے ہیں، اگر بیع مکمل ہو جائے تو مشتری قیمت ادا کر دیتا ہے اور اگر بیع مکمل نہ ہو تو بائع بیعانہ پر قبضہ کر لیتا ہے اور وہ مشتری کو واپس نہیں کرتا؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

علماء کے زیادہ صحیح قول کے مطابق بیعانہ لینے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ بائع اور مشتری کا اس پر اتفاق ہو اور بیع مکمل نہ ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت