السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
"بیمہ زندگی"کی شرعی حیثیت قرآن و سنت کی روشنی میں کیا ہے ؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
بیمہ کرا نا سوداور قمار کی وجہ سے حرا م ہے اس کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ بیمہ کمپنی جمع شدہ رقم دوسروں کو سود پر دیتی ہو اور اس میں سے ایک معین حصہ بیمہ کرا نے والو ں کو با نٹ دیتی ہو یا یہ کہ خود ہی اس روپیہ سے تجا رت کر ے اور اس کے منافع سے ایک معین اور طے شدہ منا فع ادا کر ے اسی کا نا م سود ہے ۔
دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایک کا حق دوسرے کو منتقل کر دینا جس میں ما لک کی مرضی شا مل نہیں ایسی صورت میں جوا ز کا فتوی دینا سود یا قما ر کا جواز پیدا کر نا ہے اقساط کے قصدًا ادا نہ کر نے کی صورت میں جمع شدہ قسطوں کو ضبط کر لینااکل مال بالباطل ہے ۔ (فتوی ثنائی)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ
ج1ص632