فهرس الكتاب

الصفحة 1032 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

"بیمہ زندگی"کی شرعی حیثیت قرآن و سنت کی روشنی میں کیا ہے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

بیمہ کرا نا سوداور قمار کی وجہ سے حرا م ہے اس کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ بیمہ کمپنی جمع شدہ رقم دوسروں کو سود پر دیتی ہو اور اس میں سے ایک معین حصہ بیمہ کرا نے والو ں کو با نٹ دیتی ہو یا یہ کہ خود ہی اس روپیہ سے تجا رت کر ے اور اس کے منافع سے ایک معین اور طے شدہ منا فع ادا کر ے اسی کا نا م سود ہے ۔

دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایک کا حق دوسرے کو منتقل کر دینا جس میں ما لک کی مرضی شا مل نہیں ایسی صورت میں جوا ز کا فتوی دینا سود یا قما ر کا جواز پیدا کر نا ہے اقساط کے قصدًا ادا نہ کر نے کی صورت میں جمع شدہ قسطوں کو ضبط کر لینااکل مال بالباطل ہے ۔ (فتوی ثنائی)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص632

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت