السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
اب میرا ارادہ یہ ہے کہ ٹرام کمپنی کے شیر پانسو روپے یا زائد کمی سے فروخت ہوتے ہیں چھ ماہ کے بعد جو آمد کمپنی آتی ہے اس میں سے حصہ دار پر تقسیم ہوتے ہیں۔کوئی وقت زاید روپے ملتے ہیں کوئی وقت پر کم روپے ملے کبھی یافروٹ یعنی اینٹنل وینسی ہوجا تی ہے۔تو بہت نقصان ہوتا ہے گویاسب روپے چلے جاتے ہیں اس طرح سے کام شرعیت میں کچھ نقصان ہے یانہیں؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
۔ نقصان اور نفع میں شرکت ہو توجائز ہے شرکت سے کام کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا ۔اللہ اعلم (اہلحدیث امرتسر ص23 27 جنوری 1933ء(
فتاویٰ علمائے حدیث
جلد 14 ص 208
محدث فتویٰ