فهرس الكتاب

الصفحة 1660 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک شخص نے تیس روپے من کے حساب سے اور لینے کا بھاؤ مقرر نہیں کیا اور نہ وقت اورجب لینا چاہا تو اس وقت بھاؤ دو روپے من کا ہے۔اور وہ اسی وقت کے بھاؤسے لینا چاہتا ہے۔یعنی دو ر وپے من کے حساب سے تو اس طرح لینا درست ہے یا نہیں۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اگر اس کی صورت یہ ہے کہ تیس روپے من والے غلے کے عوض میں یہ سودا ہے۔تو جائز نہیں اس سودے کو بالکل الگ سمجھنا چاہیے۔اور یہ سودا بالکل الگ تو جائز ہے۔مگر جب مقرر نہیں تو جو بھاؤ بازار کا ہوگا اسی سے لے سکے گا۔

(فتاوی ثنائیہ جلد 2 صفحہ 450)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 84

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت