فهرس الكتاب

الصفحة 1580 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک غیر مسلم کی زمین ہے اس میں ان کامندر بھی ہے وہ زمین غیر مسلم ایک مسلمان کو قیمتًابیچتاہےکیاوہ مسلمان اس مندرکومٹاکراس کی جگہ پرمسجدتعمیرکراسکتا ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جب غیرمسلم نے وہ زمین بیچ کرمسلمان کو دے دی تووہ زمین اس خریدنے والے مسلمان کی ملکیت ہوگئی اب اس مندرمیں اس غیرمسلم کا کوئی بھی واسطہ نہیں لہذاوہ مسلمان اپنی ملکیت میں کسی بھی جائز نمونے سےتصرف کرسکتا ہے،یعنی وہ بغیر خوف وخطر کے اس مندرکو مٹاکراس کی جگہ مسجدتعمیرکراسکتا ہے یااس مندرکو ختم کرسکتا ہےاورتھوڑی بہت اس کی مرمت کرکےمسجد میں تبدیل کردےتوبھی جائز ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ مندرمیں بت رکھے ہوئے ہوں توپھراس میں نماز پڑھنا جائز نہیں پراگراس میں بت نہ ہوں توپھروہ عام جگہوں کے مثل ایک جگہ ہے جس میں نماز پڑھنے کی ممانعت قرآن وسنت میں واردنہیں ہے جن جگہوں پرنماز پڑھنے کی ممانعت ہے ۔ (مثلا مقبرہ یاحمام وغیرہ) ان میں سے یہ جگہ نہیں ہے لہذا نمازپڑھی جاسکتی ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 481

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت