فهرس الكتاب

الصفحة 34 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا ہم بچوں کو جو ضدی ہوتے ہیں ان کو سمجھانے کے لئے جھوٹ بول سکتے ہیں حدیث کے حوالے سے جواب دیں۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

مسند احمد کی ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ

«من قال لصبی تعال ھاک ثم لم یعطہ فھی کذبة» (حدیث:9625)

جس نے کسی بچے سے کہا کہ ادھر آؤ یہ لے لو اور پھر اسے وہ نہ دیا جس کے لیے اس نے اسے بلایا تھا تو یہ بھی ایک جھوٹ ہے۔

اس روایت کو شیخ شعیب ارنووط نے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔

اور جھوٹ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت